غیرقانونی پارکنگ کی آڑ میں لوٹ کھسوٹ، متع
8-6-2021
راولپنڈی (نمائندہ جنگ) وزارت داخلہ پنجاب نے راولپنڈی میں غیرقانونی پارکنگ کی آڑ میں سالانہ کروڑوں روپے کی لوٹ کھسوٹ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو متعلقہ افسر اور ملازمین کے خلاف کارروائی کا حکم دیدیا ۔ وزارت داخلہ پنجاب کی طرف سے حساس اداروں کی رپورٹ پر اس بدعنوانی کا فوری نوٹس لئے جانے کے بعد چار جون کو ڈپٹی ڈائریکٹر صوبائی انٹیلی سینٹر لاہور کی طرف سے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو بھجوائے گئے خط میں میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کے میونسپل آفیسر فنانس شہزاد ناصر گوندل( جن کا گزشتہ ماہ یہاں سے تبادلہ ہوا تھا ) کو ذمہ دار ٹھہرا کر کہا گیا ہے کہ انہی کی مبینہ ملی بھگت سے شہر کے متعدد علاقوں میں عرصہ دراز سے غیرقانونی طور پر خود ساختہ پارکنگ بنی ہوئی ہیں ۔ لیاقت باغ سے کالج روڈ چوک تک محمد زاہد، گوالمنڈی چوک سے امپیریل مارکیٹ چوک تک شمریز بھائی اور امپیریل مارکیٹ موبائل پلازہ کے سامنے محمد عرفان بٹ نامی شخص نے غیرقانونی طور پر موٹر سائیکلوں، پک اپ گاڑیوں اور چنگ چی رکشوں وغیرہ کی غیر قانونی پارکنگ قائم کر رکھی تھیں جن سے ماہانہ لاکھوں روپے وصول کئے جا رہے تھے، اس کے علاوہ لوکل روٹ پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ سے بھی خلاف قانون 22تا 30روپے لیکر بندر بانٹ کی جاتی رہی اور آج تک کی جا رہی ہے، عنصر نامی انہی کا ایک کارندہ پیرودھائی اڈہ، ساجد شاہ خیابان، ناصر بھائی فوارہ چوک، خالد ہزاریہ گنج منڈی پل اور گرد ونواح کے علاقوں سے گاڑیوں سے پیسے وصول کرتا ہے اس کے علاوہ اکثر مقامات پر حکومت کی طرف سے طے کردہ پارکنگ فیس سے زائد رقوم بغیر کوئی رسید فراہم کئے وصول کی جاتی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق اس سرعام ہونے والی بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ کے باعث عوام میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے اور جگہ جگہ اس طرح کی غیرقانونی پارکنگ شہر میں ٹریفک کے بہائو میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں، رپورٹ کے مطابق متاثرین نے جب بھی مقررہ پارکنگ فیس سے زائد اور ناجائز پارکنگ کی شکایت ٹائون آفیسر فنانس شہزاد ناصر گوندل کو کی تو انہوں نے کوئی ایکشن لینے کی بجائے ہمیشہ سائل کی بات سنی ان سنی کرکے ٹرخا دیا، ڈپٹی کمشنر کو مزید قانونی کارروائی کیلئے لکھے گئے خط میں وزارت داخلہ پنجاب کی طرف سے چند سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ راولپنڈی کے شہریوں کو اس لوٹ کھسوٹ سے بچانے کیلئے پارکنگ فیس وصول کرنے والا عملہ باقاعدہ باوردی ہو، ہر گاڑی کے ڈرائیور کو پارکنگ کی رسید دی جائے، کسی بھی گاڑی کو ہر گز سڑک کنارے کھڑے ہونے کی اجازت نہ دی جائے، تمام گاڑیاں پارکنگ کیلئے مختص جگہ پر ہی کھڑی کرنے کو یقینی بنایا جائے اور شہر میں غیرقانونی پارکنگ کے نام پر پیسے بٹورنے والے کارپوریشن کے افسران و ملازمین کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔